حدیث نمبر: 18447
وَعَنْ أَبِي سُمَيْنَةَ قَالَ : اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي الْوُرُودِ ، فَقَالَ بَعْضُنَا : لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا ، فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ . فَقُلْتُ : إِنَّا اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُنَا : لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ ، وَقَالَ بَعْضُنَا : يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ؟ فَأَهْوَى بِإِصْبُعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ ، وَقَالَ : صَمْتًا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْوُرُودُ الدُّخُولُ ، لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا ، فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ ، حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ - أَوْ قَالَ : لِجَهَنَّمَ - ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا ، وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ " . قُلْتُ لِجَابِرٍ : حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ مَوْقُوفٌ غَيْرُ هَذَا . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابوسمینہ بیان کرتے ہیں : ہمارے درمیان ” ورود “ کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، ہم میں سے کچھ کا یہ کہنا تھا کہ مومن جہنم میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ کا یہ کہنا تھا ( کافر اور مومن ) سب اس میں داخل ہوں گے ، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کو نجات عطا کر دے گا راوی کہتے ہیں : میری ملاقات سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے کہا: ہمارے درمیان ” ورود “ کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے ، انہوں نے فرمایا : سب لوگ اس پر وارد ہوں گے ، میں نے ان سے کہا: ہمارے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے ، ہم میں سے کچھ کا یہ کہنا ہے : مومن اس میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ کا یہ کہنا ہے : ( کافر اور مومن ) سب اس میں داخل ہوں گے ، تو سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں کی طرف بڑھائیں اور فرمایا : یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو : ” ورود “ سے مراد داخل ہونا ہے ، ہر نیک اور گناہ گار شخص اس میں داخل ہو گا ، لیکن وہ اہل ایمان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی ، جس طرح وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے لیے ( ٹھنڈک و سلامتی والی ) ہوئی تھی ، یہاں تک کہ ان ( اہل ایمان ) کی ٹھنڈک کی وجہ سے آگ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم کی گونج ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کو نجات عطا کر دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دے گا ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے جو ” موقوف “ ہے اور اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18447
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح