مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَتَكَفَّلُ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ لِغُرَمَائِهِمْ . باب: اس شخص کا بیان ، جس کے غرماء ( یعنی اپنے حق کے طلبگاروں ) کے لئے اللہ تعالیٰ کفالت کرے گا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا الْتَقَى الْخَلَائِقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، نَادَى مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَمْعِ ، تَتَارَكُوا الْمَظَالِمَ بَيْنَكُمْ وَثَوَابُكُمْ عَلَيَّ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ سِنَانٍ : أَبُو عَوْنٍ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عِنْدَهُ وَهْمٌ كَثِيرٌ ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ ، وَمَحَلُّهُ الصِّدْقُ ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي فَضْلِ الْعِلْمِ : أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَقُولُ لَهُمْ : إِنِّي لَمْ أَضَعْ عِلْمِي فِيكُمْ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعَذِّبَكُمْ ، اذْهَبُوا فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ . وَحَدِيثٌ فِي الدَّيْنِ فِيمَنْ يَقْتَرِضُ وَيُتْلِفُ مَالَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يُؤَدِّي عَنْهُ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن جب مخلوق اکٹھی ہو گی اور اہل جنت کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کر دیا جائے گا تو ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : اے اہل جمع ! تم آپس کی زیادتیوں کو چھوڑ دو ( یعنی معاف کر دو ! ) تمہارا ثواب میرے ذمہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن سنان ابوعون ہے ابوحاتم کہتے ہیں : اسے بہت زیادہ وہم لاحق ہوتا ہے ، یہ قوی نہیں ہے اس کا محل صدق ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے علم کی فضیلت سے متعلق باب میں حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ علماء سے فرمائے گا : ” میں نے اپنا علم تمہارے اندر اس لیے نہیں رکھا کہ میں یہ ارادہ رکھتا تھا کہ میں تمہیں عذاب دوں ، تم جاؤ ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔ “ اسی طرح ایک حدیث قرض کے بارے میں ہے ، جو شخص قرض لیتا ہے اور اس کا مال ضائع ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادائیگی کروا دے گا ۔