حدیث نمبر: 18425
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَجْمَعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ : يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ عَفَا عَنْكُمْ ، فَيَقُومُ النَّاسُ فَيَتَعَلَّقُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فِي ظُلَامَاتٍ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ ، لِيَعْفُ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ وَعَلَيَّ الثَّوَابُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو عَاصِمٍ : الرَّبِيعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تمام پہلے والوں اور تمام بعد والوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا پھر عرش کے نیچے سے ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : اے اہل توحید ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے درگزر کیا ہے ، پھر وہ لوگ کچھ زیادتیوں کے حوالے سے ایک دوسرے سے مطالبہ کریں گے تو منادی پکار کر کہے گا : اے اہل توحید ! تم ایک دوسرے کو معاف کر دو اور اس کا ثواب میرے ذمہ ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعاصم ربیع بن اسماعیل ہے جو منکر الحدیث ہے یہ بات ابوحاتم نے کہی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18425
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1358)»