مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ . باب: قصاص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - حَابِسٌ الْغَرِيمَ عَلَى غَرِيمِهِ كَأَشَدِّ مَا حُبِسَ شَيْءٌ عَلَى شَيْءٍ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، كَيْفَ أُعْطِيهِ وَقَدْ حَشَرْتَنِي عُرْيَانًا حَافِيًا ، فَمِنْ أَيْنَ ؟ ! فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : سَأُعْطِيهِمْ مِنْ حَسَنَاتِكَ ، فَتُطْرَحُ عَلَى حَسَنَاتِ الْقَوْمِ ، فَإِنْ كَفَتْ وَإِلَّا أَخَذْتَ مِنْ سَيِّئَاتِ الْقَوْمِ فَطُرِحَتْ عَلَى سَيِّئَاتِكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤سیدنا ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ ایک غریم ( یعنی جس کے ذمہ کوئی ادائیگی ہو گی ، اس ) کو دوسرے کے لئے روک لے گا ، اتنی زیادہ سختی کے ساتھ جتنی سختی کی جا سکتی ہے ، وہ کہے گا : اے پروردگار ! میں اسے کیسے کچھ دوں ؟ جبکہ تو نے میرا حشر ایسی حالت میں کیا ہے کہ میں برہنہ ہوں اور برہنہ پاؤں ہوں ، تو ادائیگی کیسے ہو سکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہم ان لوگوں کو تمہاری نیکیاں دے دیتے ہیں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) پھر اس کی نیکیاں لوگوں کو دے دی جائیں گی ، اگر وہ کفایت کر جائیں گی تو ٹھیک ہے ورنہ لوگوں کے گناہ لے کر اُس کے گناہوں میں شامل کر دیے جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔