مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقِصَاصِ . باب: قصاص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي وَكَانَ بِيَدِهِ سِوَاكٌ ، فَدَعَا وَصِيفَةً لَهُ - أَوْ لَهَا - حَتَّى اسْتَبَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ ، فَخَرَجَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى الْحُجُرَاتِ فَوَجَدَتِ الْوَصِيفَةَ وَهِيَ تَلْعَبُ بِبَهْمَةٍ ، فَقَالَتْ : أَلَا أَرَاكِ تَلْعَبِينَ بِهَذِهِ الْبَهْمَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكِ ؟ فَقَالَتْ : لَا . وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا سَمِعْتُكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا خَشْيَةُ الْقَوَدِ لَأَوْجَعْتُكِ بِهَذَا السِّوَاكِ " .نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے ، آپ کے دست مبارک میں مسواک تھی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کنیز کو ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی کنیز کو بلایا ( وہ نہیں آئی ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر غضب کے آثار نمایاں ہوئے ، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اُٹھ کر کمرے کے اندر گئیں ، تو انہوں نے اس کنیز کو پایا کہ وہ بکری کے بچے کے ساتھ کھیل رہی تھی ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم یہاں بکری کے بچے کے ساتھ کھیل رہی ہو اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں بلا رہے ہیں ، اس کنیز نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے آپ کی آواز نہیں سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر بدلہ دیے جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نے تمہیں اس مسواک کے ذریعے مارنا تھا ۔ “