حدیث نمبر: 18404
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى شَاتَيْنِ تَنْتَطِحَانِ فَقَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، هَلْ تَدْرِي فِيمَا انْتَطَحَتَا ؟ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " وَلَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي وَسَيَقْضِي بَيْنَهُمَا " . رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِالرِّوَايَةِ الْأُولَى ، وَكَذَلِكَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْمُعْجَمِ الْأَوْسَطِ ، وَفِيهَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِهِ ابْنِ عَائِشَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِيهَا رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

ایک روایت میں یہ بات مذکور ہے : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بکریوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے کو سینگ مار رہی تھیں ، آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! کیا تم اس بارے میں جانتے ہو ؟ یہ جو ایک دوسرے کو سینگ مار رہی ہیں ، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لیکن اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے اور وہ عنقریب ان دونوں کے درمیان فیصلہ دے گا ۔ “ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، امام بزار نے پہلی روایت نقل کی ہے امام طبرانی نے اسی طرح کی روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابی سلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان کے استاد ابن عائشہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ دوسری روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (162/5)»