حدیث نمبر: 18363
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَأَنْظُرُ إِلَى بَيْنِ يَدَيَّ فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ ، وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ " . ¤ فَقَالَ رَجُلٌ : كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ ، فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ ؟ ! قَالَ : " هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ ، لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرَهُمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ إِنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعَى ذُرِّيَّتُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَذَرَارِيُّهُمْ نُورٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” قیامت کے دن میں وہ پہلا فرد ہوؤں گا ، جس کو سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور میں وہ پہلا فرد ہوؤں گا ، جسے یہ اجازت دی جائے گی کہ وہ اپنے سر کو اٹھائے ، میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو دیگر امتوں کے درمیان اپنی امت کو پہچان لوں گا ، اپنے پیچھے بھی اسی طرح ( پہچان لوں گا ) اپنے دائیں طرف بھی اسی طرح ( پہچان لوں گا ) اور بائیں طرف بھی اسی طرح ( پہچان لوں گا ) ۔ “ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! سیدنا نوح علیہ السلام کی امت سے لے کر اپنی امت تک کی امتوں کے درمیان میں سے آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ وضو کے اثرات کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے ، ان کے علاوہ کوئی اور ایسا نہیں ہو گا اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ جب وہ آئیں گے تو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ اُن کے بچے ان کے آگے دوڑتے ہوئے آ رہے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” اور ان کے بچے اُن کے آگے نور کی شکل میں ہوں گے ۔ “ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18363
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3457) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (199/5)»