مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ كَثْرَةِ هَذِهِ الْأُمَّةِ ، وَعَلَامَتِهَا فِي الْآخِرَةِ . باب: آخرت میں ، اس امت کی کثرت اور اس کی ( مخصوص ) علامت کا بیان
حدیث نمبر: 18361
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ ؟ قَالَ : " أَعْرِفُهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ ، وَأَعْرِفُهُمْ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ، وَأَعْرِفُهُمْ بِنُورِهِمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن میں دیگر امتوں کے درمیان اپنی امت کو پہچان لوں گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں انہیں پہچان لوں گا ، جب وہ آئیں گے تو ان کے نامہ اعمال اُن کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور سجدوں کے نشانات کی وجہ سے ان کے چہرے میں موجود مخصوص نشانی کی وجہ سے میں انہیں پہچان لوں گا اور میں ان کے نور کی وجہ سے انہیں پہچان لوں گا جو ان کے آگے چل رہا ہو گا ۔ “