حدیث نمبر: 18331
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ : " لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا مُنْذُ خَلَقَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ، ثُمَّ الْمَوْتُ أَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ ، وَإِنَّهُمْ لَيَلْقَوْنَ مِنْ هَوْلِ ذَلِكَ الْيَوْمِ شِدَّةً حَتَّى يُلْجِمَهُمُ الْعَرَقُ ، حَتَّى إِنَّ السُّفُنَ لَوْ أُجْرِيَتْ فِيهِ لَجَرَتْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ ، وَلَمْ يَشُكَّ فِي رَفْعِهِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین

عبدالعزیز عطار ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کرتے ہیں اور میرا خیال ہے انہوں نے اس کو مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ) ” ابن آدم کو جب اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ، اُس وقت سے لے کر اُس نے کسی ایسی چیز کا سامنا نہیں کیا جو اس کے لئے موت سے زیادہ سخت ہو ، حالانکہ اس کے بعد والی صورتحال کے مقابلے میں موت آسان ہے ، لوگ قیامت کے دن ایسی سخت ہولناکی کا سامنا کریں گے کہ ان کو پسینے کی لگام ڈال دی جائے گی اور وہ پسینہ اتنا ہو گا کہ اگر اس میں کشتیاں چلائی جائیں تو وہ بھی چل پڑیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے اختصار کے ساتھ ایک صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے اور انہوں نے اس کے مرفوع ہونے میں شک کا اظہار نہیں کیا ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18331
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ جید۔
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (154/3)»