مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْأَذَانِ . باب: اذان دینے کی فضیلت
حدیث نمبر: 1833
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نِعْمَ الْمَرْءُ بِلَالٌ ، وَلَا يَتْبَعُهُ إِلَّا مُؤْمِنٌ ، وَهُوَ سَيِّدُ الْمُؤَذِّنِينَ ، وَالْمُؤَذِّنُونَ أَطْوَلُ النَّاسِ أَعْنَاقًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بلال اچھا آدمی ہے ، اور کوئی مؤمن ہی اس کی پیروی کرے گا وہ اذان دینے والوں کا سردار ہے ، اور اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن سب سے زیادہ لمبی گردنوں والے ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسام بن مصک ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔