حدیث نمبر: 18315
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا هَلَكَ قَوْمُ لُوطٍ إِلَّا فِي الْأَذَانِ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي الْأَذَانِ " . قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : مَعْنَاهُ عِنْدِي - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - : فِي وَقْتِ أَذَانِ الْفَجْرِ ، وَهُوَ وَقْتُ الِاسْتِغْفَارِ وَالدُّعَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ آدَمَ بْنِ عَلِيٍّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سیدنا لوط علیہ السلام کی قوم اذان کے وقت ہلاکت کا شکار ہوئی تھی اور قیامت بھی اذان کے وقت قائم ہو گی ۔ “ امام طبرانی کہتے ہیں : میرے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے ویسے اللہ بہتر جانتا ہے کہ فجر کی اذان کے وقت ایسا ہو گا اور یہ استغفار اور دعا کا وقت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف آدم بن علی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18315
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح