حدیث نمبر: 18219
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : غَدَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " . قَالُوا : النِّفَاقُ النِّفَاقُ . قَالَ : " أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ ! " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " لَيْسَ ذَلِكَ النِّفَاقَ " . قَالَ : ثُمَّ عَادُوا الثَّانِيَةَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ . قَالَ : " وَمَا ذَاكَ ؟ " . قَالُوا : النِّفَاقُ النِّفَاقُ . قَالَ : " أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ " . قَالَ : ثُمَّ عَادُوا الثَّالِثَةَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قَالُوا : النِّفَاقُ النِّفَاقُ قَالَ " أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ " . قَالُوا : إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ كُنَّا عَلَى حَالٍ ، وَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ هَمَّتْنَا الدُّنْيَا وَأَهْلُونَا . قَالَ : " لَوْ أَنَّكُمْ إِذَا خَرَجْتُمْ مِنْ عِنْدِي تَكُونُونَ عَلَى الْحَالِ الَّتِي تَكُونُونَ عَلَيْهِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِطُرُقِ الْمَدِينَةِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ غَسَّانَ بْنِ بُرْزِينَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب صبح کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رب کعبہ کی قسم ! ہم ہلاکت کا شکار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : منافقت ، منافقت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ منافقت نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر دوبارہ وہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رب کعبہ کی قسم ! ہم ہلاکت کا شکار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : منافقت ، منافقت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ منافقت نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر تیسری مرتبہ وہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رب کعبہ کی قسم ! ہم ہلاکت کا شکار ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : منافقت ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ منافقت نہیں ہے ۔ اُن لوگوں نے عرض کی : جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں ، تو ہماری ایک مخصوص حالت ہوتی ہے اور جب ہم آپ کے پاس سے اُٹھ کر چلے جاتے ہیں ، تو دنیا کے معاملات اور ہمارے گھر والوں کی پریشانیاں ہمیں لاحق ہو جاتی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم میرے پاس سے چلے جاتے ہو ، اُس وقت بھی تمہاری وہی حالت رہے ، جو پہلے ( یعنی میرے پاس موجود رہنے کے دوران ) ہوتی ہے تو مدینہ کے راستوں میں فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف غسان بن برزین کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18219
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (3304)»