حدیث نمبر: 18101
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : تُلِيَتِ الْآيَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَاأَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا سَعْدُ ، أَطِبْ مَطْعَمَكَ تَكُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنَّ الْعَبْدَ يَقْذِفُ اللُّقْمَةَ الْحَرَامَ فِي جَوْفِهِ مَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ الْعَمَلُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، وَأَيُّمَا عَبْدٍ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ آیت تلاوت کی : ” اے لوگو ! زمین میں جو کچھ ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیز کھاؤ ۔ “ تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ مجھے ” مستجاب الدعوات “ بنا دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے سعد ! تم اپنے کھانے کی چیزوں کو پاکیزہ رکھو ، تم ” مستجاب الدعوات “ بن جاؤ گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، کوئی بندہ اپنے پیٹ میں حرام کا ایک لقمہ ڈالتا ہے اور چالیس دن تک اُس کی طرف سے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور جس بندے کے گوشت کی نشوونما حرام کے ذریعے ہوتی ہے تو آگ ( یا جہنم ) اس کی زیادہ حقدار ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18101
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف