حدیث نمبر: 1808
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَعَرَّسَ بِنَا تَعْرِيسَةً فِي آخِرِ اللَّيْلِ ، فَاسْتَيْقَظْنَا وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ : " الرَّحِيلَ الرَّحِيلَ " ، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى كَانَتِ الشَّمْسُ فِي كَبِدِ السَّمَاءِ ، نَزَلَ ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَصَلَّى كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنُعِيدُهَا مِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا ؟ فَقَالَ : " نَهَانَا اللَّهُ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنَّا " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے وقت سفر کر رہے تھے رات کے آخری حصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پڑاؤ کرنے کا حکم دیا ( ہم لوگ سو گئے ) جب ہم بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہو چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : روانہ ہو جاؤ روانہ ہو جاؤ ہم لوگ روانہ ہو گئے یہاں تک کہ جب سورج آسمان کے جگر میں تھا تو آپ نیچے اترے آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی ہم میں سے ہر ایک شخص نے دو رکعات ( یعنی سنتیں ) ادا کیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم کل اس نماز کے مخصوص وقت میں اس کو دہرا لیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہمیں سود سے منع کیا ہے ، تو کیا وہ اس ( سود ) کو ہم سے قبول کر لے گا “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1808
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف