حدیث نمبر: 18074
عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ الْفِهْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَاللَّهِ ، مَا الدُّنْيَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ ! " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ : " مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا " . وَقَوْلُهُ : " وَاللَّهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا شداد بن اوس فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ کی قسم ! دنیا اپنے آغاز سے لے کر اختتام تک آخرت کے مقابلے میں یوں ہے جیسے کوئی شخص دریا میں انگلی داخل کرے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ کس کے ہمراہ واپس آئی ہے ( یعنی اس پر دریا کا کتنا پانی لگ گیا ہے ؟ ) “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اپنے آغاز سے لے کر اختتام تک ۔ “ اور یہ الفاظ ( بھی نہیں ہیں : ) ” اللہ کی قسم ۔ “ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن معاویہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 18074
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (545)»