حدیث نمبر: 1806
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَقَالَ : " مَنْ يَكْلَأُنَا اللَّيْلَةَ ؟ " فَقُلْتُ : أَنَا ، فَنَامَ وَنَامَ النَّاسُ ، وَنِمْتُ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ هَذِهِ الْأَرْوَاحَ عَارِيَّةٌ فِي أَجْسَادِ الْعِبَادِ ، يَقْبِضُهَا وَيُرْسِلُهَا إِذَا شَاءَ ، فَاقْضُوا حَوَائِجِكُمْ عَلَى رِسْلِكُمْ " فَقَضَيْنَا حَوَائِجَنَا عَلَى رِسْلِنَا ، وَتَوَضَّأْنَا وَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُتْبَةُ أَبُو عَمْرٍو رَوَى عَنْ الشَّعْبِيِّ وَرَوَى عَنْهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آج رات کون ہماری پہرہ داری کرے گا میں نے عرض کی : میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور لوگ بھی سو گئے اور میں بھی سو گیا ہم لوگ سورج کی تپش کی وجہ سے بیدار ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو بے شک یہ ارواح بندوں کے اجسام میں عاریت کے طور پر ہیں وہ جب چاہتا ہے انہیں قبض کر لیتا ہے ، اور انہیں چھوڑ دیتا ہے ، تو تم آرام سے اپنی حاجات سے فارغ ہو جاؤ راوی کہتے ہیں : ہم نے آرام سے حاجات پوری کیں پھر ہم نے وضو کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کر کے فجر کی دو رکعاتیں ادا کیں پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو عتبہ ہے ، جس نے امام شعبی سے روایت نقل کی ہے ، اور اس سے محمد بن حسن اسدی نے روایت نقل کی ہے : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1806
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف