مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَامَ عَنْ صَلَاةٍ أَوْ نَسِيَهَا . باب: جو شخص نماز کے وقت سویا رہ جائے یا اسے بھول جائے اس کا حکم
حدیث نمبر: 1805
وَعَنْ بِلَالٍ أَنَّهُمْ نَامُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَالًا حِينَ نَامُوا ، فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَقَامَ بِلَالٌ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً بَعْدَ مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کے دوران سو گئے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات ادا کیں پھر سیدنا بلال ہیں مینز نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی یہ سورج نکل آنے کے بعد کی بات ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔