حدیث نمبر: 1785
وَعَنْ حَرْمَلَةَ قَالَ : انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ الْحَيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِنَا صَلَاةَ الصُّبْحِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ جَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ الَّذِي إِلَى جَنْبِي فَلَا أَكَادُ أَعْرِفُهُ مِنَ الْغَلَسِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي ، فَقَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ ، وَإِنْ كُنْتَ فِي الْقَوْمِ فَسَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ لَكَ مَا يُعْجِبُكَ فَأْتِهِ ، وَإِنْ سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ لَكَ مَا تَكْرَهُ فَدَعْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ ضِرْغَامَةَ بْنِ عُلَيَّةَ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ بِمَا فِيهِ هَهُنَا لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ ، وَضِرْغَامَةُ وَحَرْمَلَةُ ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حرملہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں قبیلے کے وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جب آپ نے سلام پھیرا تو میں نے اپنے پہلو میں موجود شخص کے چہرے کی طرف دیکھا تو اندھیرا زیادہ ہونے کی وجہ سے میں اسے پہچان نہیں سکا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی ہدایت کیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالی سے ڈرتے رہنا اگرچہ تم کچھ لوگوں کے درمیان موجود ہو اور تم ان لوگوں کو یہ کہتے ہوئے ۔ سنو کہ وہ تمہیں یہ کہیں جو چیز تمہیں اچھی لگتی ہے وہ تم کر لو اور خواہ تم انہیں یہ کہتے ہوئے سنو کہ وہ تمہیں کہیں جو چیز تمہیں ناپسند ہوتی ہے تم اسے چھوڑ دو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ضرغامہ بن علیہ بن حرملہ کی ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر اس میں کیا ہے ، جو ہم نے یہاں ذکر کیا ہے ، اور اس پر تردید نہیں کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ضرغامہ اور حرملہ ان دونوں راویوں کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1785
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔