حدیث نمبر: 1776
وَلِرَافِعٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " نَوِّرُوا بِالصُّبْحِ بِقَدْرِ مَا يُبْصِرُ الْقَوْمُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِمْ " . ¤ وَهُمَا مِنْ رِوَايَةِ هُرَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَقَدْ ذَكَرَهُمَا ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَحَدٍ مِنْهُمَا جَرْحًا وَلَا تَعْدِيلًا . قُلْتُ : وَهُرَيْرٌ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يَرْوِي عَنْ أَبِيهِ .
محمد محی الدین

امام طبرانی نے معجم کبیر ہی میں ، سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” صبح کی نماز اتنی روشنی میں ادا کرو کہ لوگ اتنی دور تک دیکھ سکیں کہ جتنی دور تیر جا کے گرتا ہے “ ۔
یہ دونوں روایات ہریر بن عبدالرحمن بن رافع بن خدیج نے نقل کی ہیں ان دونوں راویوں کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، اور ان دونوں نے ان میں سے کسی ایک کے بارے میں کوئی جرح یا تعدیل نقل نہیں کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : کہ ہریر نامی راوی کا تذکرہ ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، اس نے اپنے والد سے روایات نقل کی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1776
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن