حدیث نمبر: 17749
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، تَقُولُ : كَثْرَةُ الْمَالِ الْغِنَى ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " تَقُولُ : قِلَّةُ الْمَالِ الْفَقْرُ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْغِنَى فِي الْقَلْبِ ، وَالْفَقْرُ فِي الْقَلْبِ ، مَنْ كَانَ الْغِنَى فِي قَلْبِهِ فَلَا يَضُرُّهُ مَا لَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا ، وَمَنْ كَانَ الْفَقْرُ فِي قَلْبِهِ فَلَا يُغْنِيهِ مَا أُكْثِرَ لَهُ فِي الدُّنْيَا ، وَإِنَّمَا يَضُرُّ نَفْسَهُ شُحُّهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِيمَنْ يَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ يَمْلَأُ اللَّهُ قَلْبَهُ غِنًى . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : اے ابوذر ! کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ مال کا زیادہ ہونا خوشحالی ہوتی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ مال کا کم ہونا غربت ہوتی ہے ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوشحالی ، دل میں ہوتی ہے اور غربت ، دل میں ہوتی ہے ، جس شخص کے دل میں خوشحالی ہو گی ، اُسے دنیا میں سے جو بھی ملے گا کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ، اور جس کے دل میں غربت ہو ، اُس کے لیے دنیا کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائے ، وہ اسے خوشحال نہیں کر سکے گی ، اور نفس کو ، اُس کا لالچ نقصان پہنچاتا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کے حدیث آئے گی ، جو اس شخص کے بارے میں ہو گی ، جو عبادت کے لیے فارغ ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو خوشحالی سے بھر دیتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزهد / حدیث: 17749
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن ولکن عند الشواھد حدیث صحیح، ولہ شاہد
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1643)»