مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ . باب: صبح کی نماز کا وقت
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الصُّبْحِ ; فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ : كَذَّابٌ . وَضَعَّفَهُ النَّاسُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَرْجُو أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ . قُلْتُ : قِيلَ لَهُ عِنْدَ الْمَوْتِ : أَلَا تَسْتَغْفِرُ اللَّهَ ، قَالَ : أَلَا أَرْجُو أَنْ يُغْفَرَ لِي وَقَدْ وَضَعْتُ فِي فَضْلِ عَلِيٍّ سَبْعِينَ حَدِيثًا ? . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” صبح کی نماز روشن کر کے ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن واسطی ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ کذاب ہے لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : مجھے یہ امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا میں یہ کہتا ہوں : اس شخص سے موت کے وقت یہ کہا: گیا کہ کیا تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب نہیں کرو گے اس نے کہا: کیا میں اس بات کی امید نہ رکھوں کہ میری مغفرت ہو جائے گی جب کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کے بارے میں ستر احادیث ایجاد کی ہوئی ہیں ۔