مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ . باب: صبح کی نماز کا وقت
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الْفَجْرِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ ، أَوَ أَعْظَمُ لِأَجْرِكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، قُلْتُ : وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ ، وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” فجر کی نماز روشنی میں ادا کرو کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) یہ تمہارے لئے زیادہ اجر کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : اس میں زید بن اسلم پر اختلاف کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ امام نسائی رحمہ اللہ اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔