حدیث نمبر: 17624
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى وَحْشِيٍّ قَاتِلِ حَمْزَةَ يَدْعُوهُ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ : يَا مُحَمَّدُ ، كَيْفَ تَدْعُونِي إِلَى دِينِكَ وَأَنْتَ تَزْعُمُ أَنَّ مَنْ قَتَلَ ، أَوْ أَشْرَكَ ، أَوْ زَنَى ، يَلْقَى أَثَامًا ، يُضَاعَفُ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَيَخْلُدُ فِيهِ مُهَانًا ؟ ! وَأَنَا صَنَعْتُ ذَلِكَ فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ، فَقَالَ وَحْشِيٌّ : يَا مُحَمَّدُ ، هَذَا شَرْطٌ شَدِيدٌ ، إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا ، فَلَعَلِّي لَا أَقْدِرُ عَلَى هَذَا . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ . فَقَالَ وَحْشِيٌّ : يَا مُحَمَّدُ ، أَرَى بَعْدَ مَشِيئَةٍ فَلَا أَدْرِي يَغْفِرُ لِي أَمْ لَا ؟ فَهَلْ غَيْرَ هَذَا ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ . قَالَ وَحْشِيٌّ : هَذَا نَعَمْ . فَأَسْلَمَ . فَقَالَ النَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَصَبْنَا مَا أَصَابَ وَحْشِيٌّ ، قَالَ : " هِيَ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبْيَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي آخِرِ الْبَابِ قَبْلَهُ قَوْلُ أَبِي هُرَيْرَةَ لِلْفَرَزْدَقِ : إِيَّاكَ أَنْ تَقْطَعَ رَجَاءَكَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل ، وحشی کو پیغام بھیج کر اسے اسلام کی دعوت دی ، اس نے جوابی پیغام بھیجا : اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ مجھے اپنے دین کی طرف کیسے دعوت دے سکتے ہیں ؟ جبکہ آپ کا یہ کہنا ہے کہ جس شخص نے قتل کیا ہو ، یا شرک کیا ہو ، یا زنا کیا ہو ، وہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ، اور قیامت کے دن اُسے دو گنا عذاب دیا جائے گا اور وہ اہانت کا شکار ہو کر اس میں رہے گا ، تو میں نے تو یہ کام کیے ہوئے ہیں ، کیا آپ میرے لیے کوئی رخصت پاتے ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے توبہ کی اور وہ ایمان لے آیا ، اور اس نے نیک عمل کیا ، یہ وہ لوگ ہیں ، جن کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں میں تبدیل کر دے گا ، اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے ۔ “
تو وحشی نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ شرط تو بہت سخت ہے کہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو توبہ کر لے اور ایمان لے آئے ، اور نیک عمل کرے ، کیونکہ ہو سکتا ہے میں ایسا نہ کر سکوں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس چیز کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے ، اس کے علاوہ ، وہ جس کی چاہے گا ، مغفرت کر دے گا ۔ “
تو وحشی نے کہا: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! یہ تو اس کی مشیت پر موقوف ہے ، مجھے نہیں پتہ کہ وہ میری مغفرت کرے گا ، یا نہیں کرے گا ؟ کیا اس کے علاوہ کچھ اور ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اے میرے وہ بندو ! جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا ، بے شک اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کی مغفرت کر دے گا ، بے شک وہ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہے ۔ “
تو وحشی نے کہا: یہ ٹھیک ہے ، پھر انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! جن کاموں کا ارتکاب وحشی نے کیا ہے ، ان کا ارتکاب ہم نے بھی کیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ ( حکم ) مسلمانوں کے لئے عمومی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن سفیان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے والے باب کے آخر میں ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ قول گزر چکا ہے ، جو انہوں نے فرزدق سے ارشاد فرمایا تھا : ” تم اس بات سے بچ کے رہنا کہ اللہ کی رحمت سے تمہاری امید منقطع ہو جائے ۔ “
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، اگر تم خطائیں کرو ، یہاں تک کہ تمہاری خطائیں وہاں تک پہنچ جائیں ، جو آسمان اور زمین کی درمیانی جگہ ہے ، اور پھر تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو ، تو وہ تمہاری مغفرت کر دے گا ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے ، ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر تم لوگ خطائیں نہ کرو ، تو اللہ تعالیٰ اس قوم کو لے آئے گا ، جو خطا کریں گے اور پھر مغفرت مانگیں گے ، اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، - أَوْ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ - لَوْ أَخْطَأْتُمْ حَتَّى تَبْلُغَ خَطَايَاكُمْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، ثُمَّ اسْتَغْفَرْتُمُ اللَّهَ لَغَفَرَ لَكُمْ . وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ - أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ - لَوْ لَمْ تُخْطِئُوا ; لَجَاءَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِقَوْمٍ يُخْطِئُونَ ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُونَ فَيَغْفِرُ لَهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے - یا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے - اگر تم اتنی خطائیں (گناہ) کرو کہ تمہاری خطائیں آسمان و زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیں ، پھر تم اللہ سے مغفرت طلب کرو ، تو وہ تمہیں لازماً بخش دے گا ۔ اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے - یا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے - اگر تم سے گناہ نہ سرزد ہوں ، تو اللہ عزوجل ایسی قوم کو وجود میں لائے گا جو گناہ کرے گی ، پھر وہ (اللہ سے ) استغفار کرے گی تو اللہ ان کی مغفرت فرمائے گا “ ۔
اسے امام أحمد اور امام ابویعلیٰ رحمہما اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التوبة / حدیث: 17624
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (4226) اخرجه احمد فى المسند (238/3)»