مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى . باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان
حدیث نمبر: 17622
وَعَنِ الْفَرَزْدَقِ بْنِ غَالِبٍ قَالَ : لَقِيتُ أَبَا هُرَيْرَةَ بِالشَّامِ فَقَالَ لِي : أَنْتَ الْفَرَزْدَقُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : أَنْتَ الشَّاعِرُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : أَمَّا إِنَّكَ إِنْ بَقِيتَ لَقِيتَ قَوْمًا يَقُولُونَ : لَا تَوْبَةَ لَكَ ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَقْطَعَ رَجَاءَكَ مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
فرزدق بن غالب بیان کرتے ہیں : شام میں ، میری ملاقات سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم فرزدق ہو ، میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے دریافت کیا : تم شاعر ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! انہوں نے فرمایا : اگر تم زندہ رہ گئے ، تو تمہارا سامنا ایسے لوگوں سے ہو گا ، جو یہ کہیں گے : تمہارے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ، لیکن تم اس بات سے بچ کے رہنا کہ اللہ کی رحمت سے ، تمہاری امید منقطع ہو جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ حدیث میں ضعیف ہے ۔