مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى . باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کا بیان
حدیث نمبر: 17620
وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَسَّمَ رَبُّنَا رَحْمَتَهُ مِائَةَ جُزْءٍ ، فَأَنْزَلَ مِنْهَا جُزْءًا فِي الْأَرْضِ ، فَهُوَ الَّذِي يَتَرَاحَمُ بِهِ النَّاسُ ، وَالطَّيْرُ ، وَالْبَهَائِمُ ، وَبَقِيَتْ عِنْدَهُ مِائَةُ رَحْمَةٍ إِلَّا رَحْمَةً وَاحِدَةً لِعِبَادِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ غَيْرُ إِسْحَاقَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہمارے پروردگار نے رحمت کے 100 اجزاء کیے ہیں ، اُن میں سے ایک جزء زمین میں نازل کیا ہے ، اور اسی ایک جزء کی وجہ سے لوگ اور پرندے اور جانور ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، رحمت کے بقیہ 99 حصے پروردگار کے پاس ہیں ، جو قیامت کے دن اس کے بندوں کے لئے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے ، سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اسحاق کے علاوہ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔