مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَمَا جَاءَ فِيهِمْ . باب: مسلمانوں میں سے کبیرہ گناہ کرنے والے لوگوں کے لئے دعائے مغفرت کرنا اور ایسے لوگوں کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : كُنَّا نُمْسِكُ عَنِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى سَمِعْنَا نَبِيَّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ . وَقَالَ : " أَخَّرْتُ شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . قُلْتُ : قَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَائِلِ التَّوْبَةِ : بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُذْنِبِينَ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے ہم کبیرہ گناہ کے مرتکب افراد کے لیے دعائے مغفرت نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ ہم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تلاوت کرتے ہوئے سنا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے ، اور وہ اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔ “ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک میں نے اپنی شفاعت کو قیامت کے دن کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کے لیے موخر کیا ہے ( یعنی سنبھال کے رکھا ہے ) ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب التوبہ کے آغاز میں یہ باب گزر چکا ہے ، باب : اہل توحید سے تعلق رکھنے والے گناہگار افراد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے ۔