مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ أَوْقَاتِ الِاسْتِغْفَارِ . باب: استغفار کے اوقات کا بیان
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ ، فَيُنَادِي مُنَادٍ : هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى ؟ هَلْ مِنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجُ عَنْهُ ؟ فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ ، إِلَّا زَانِيَةٌ تَسْعَى بِفَرْجِهَا أَوْ عَشَّارٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عثمان بن ابوالعاص تقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نصف رات کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور منادی پکار کر یہ کہتا ہے : کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی پریشان حال ہے کہ اس کی پریشانی ختم کر دی جائے ؟ تو اس وقت جو بھی مسلمان جو دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول کرتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی ایسی عورت جو زنا کی کمائی کھاتی ہے ، اور بھتہ وصول کرنے والے شخص ( ان دونوں ) کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی اُس گھڑی میں ان دونوں کی دعا قبول نہیں ہوتی ) ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔