مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِكْثَارِ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ . باب: کثرت کے ساتھ استغفار کرنا
حدیث نمبر: 17586
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرُؤٌ ذَرِبُ اللِّسَانِ ، وَأَكْثَرُ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ ؟ ! إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مِائَةَ مَرَّةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک بدزبان شخص ہوں اور میری زیادہ تر بدزبانی اپنے اہل خانہ کے خلاف ہوتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم استغفار کیوں نہیں کرتے ہو ؟ ” میں “ ایک دن اور ایک رات میں ، ایک سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن سلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔