حدیث نمبر: 1757
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعِشَاءَ تِسْعَ لَيَالٍ - وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ : ثَمَانٍ لَيَالٍ - إِلَى ثُلْثِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَنَّكَ عَجَّلْتَ لَكَانَ أَمْثَلَ لِقِيَامِنَا مِنَ اللَّيْلِ . قَالَ : فَعَجَّلَ بَعْدَ ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ مُخْتَلَفٌ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نو راتوں تک عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی یہاں ابوداؤد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : آٹھ راتوں تک ایسا کیا آپ نے اسے ایک تہائی رات گزرنے تک مؤخر کیا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اسے جلدی ادا کر لیں تو یہ ہمارے رات کے نوافل کے لئے زیادہ موزوں ہو گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو جلدی ادا کر لیتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس سے روایت کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1757
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف