مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التوبة— توبہ کے بارے میں روایات
بَابُ إِلَى مَتَى تُقْبَلُ تَوْبَةُ الْعَبْدِ . باب: بندے کی توبہ کب تک قبول ہوتی ہے ؟
حدیث نمبر: 17508
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ : لَا أُحَدِّثُكُمْ إِلَّا عَنْ كِتَابٍ مُنَزَّلٍ ، أَوْ نَبِيٍّ مُرْسَلٍ : " مَا مِنْ نَفْسٍ تَتُوبُ قَبْلَ مَرَضِهَا الَّذِي تَمُوتُ فِيهِ تَوْبَةً إِلَّا قَبِلَ تَوْبَتَهَا إِلَى أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ أَبِي فَائِدٍ ، عَنْ رِبْعِيٍّ وَلَمْ أَعْرِفْ أَبَا فَائِدٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کیا میں تم لوگوں کو ” نازل شدہ کتاب “ یا ” نبی مرسل “ کے حوالے سے بات بیان کروں : ( وہ بات یہ ہے : ) ” جو شخص اس بیماری کا شکار ہونے سے پہلے توبہ کر لیتا ہے ، جس بیماری میں اس کا انتقال ہو جائے ، تو اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے ، اور ایسا اُس وقت تک رہے گا جب تک سورج مغرب سے طلوع نہیں ہوتا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے ابوفائد کی ربعی سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور میں ابوفائد سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔