حدیث نمبر: 1737
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي عَلَى الْإِسْلَامِ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ حَتَّى تَشْتَبِكَ النُّجُومُ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ ، وَمَا لَمْ يُعَجِّلُوا الْفَجْرَ مُضَاهَاةَ النَّصَارَى ، وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي فَضْلِهَا فِي الصَّلَاةِ الْوُسْطَى . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حارث بن وہب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت اسلام ( کی تعلیمات ) پر اس وقت تک گامزن رہے گی جب تک وہ مغرب کو اتنا مؤخر نہیں کرے گی کہ ستارے چمکنے لگیں جو یہودیوں کا طریقہ ہے ، اور جب تک وہ فجر کی نماز کو اتنی جلدی ادا نہیں کریں گے جو عیسائیوں کا طریقہ ہے ، اور جب تک وہ جنائز کو اس کے اہل کے سپرد نہیں کریں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے درمیانی نماز سے متعلق باب میں اس کی فضیلت سے متعلق حدیث گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1737
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب من اسمه الحارث ، حارثة بن وبب الخزاعي معبد بن خالد الجدلى عن حارثة ، 3189»