مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ وَقْتِ الظُّهْرِ . باب: ظہر کا وقت
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّمْضَاءَ ، فَلَمْ يُشْكِنَا وَقَالَ : " أَكْثَرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهَا تَدْفَعُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ بَابًا مِنَ الضُّرِّ ، أَدْنَاهَا الْهَمُّ " . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الصَّلَاةِ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ وَغَيْرِهِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ بَلْهَطُ ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریت کے گرم ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت کو قبول نہیں کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم لوگ کثرت کے ساتھ لا حول ولا قوة الا باللہ پڑھو ! کیونکہ یہ نقصان کے ننانوے دروازے دور کر دیتا ہے ، جن میں سے سب سے کمتر ، سخت ترین پریشانی ہے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث ، جو گرمی کی شدت میں نماز ادا کرنے کے بارے میں ہے ، وہ امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ” بلہط“ ہے ، جسے عقیلی نے ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔