مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ . باب: اس امت کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَقُولُ لِأَبِي بُرْدَةَ : حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ لَيْسَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَبِيكَ فِيهِ أَحَدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مُقَدِّسَةٌ ، مُبَارَكَةٌ ، مَرْحُومَةٌ ، لَا عَذَابَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِنَّمَا عَذَابُهُمْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا بِالْفِتَنِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا الْقَاسِمُ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ - وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ السَّكُونِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سلیمان بن داؤد خولانی بیان کرتے ہیں : میں نے عمر بن عبدالعزیز کو ابوبردہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ! جس میں آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کوئی اور واسطہ نہ ہو ، تو ابوبردہ نے بتایا : میں نے اپنے والد ( یعنی سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت پاک ، برکت والی اور رحم یافتہ ہے ، قیامت کے دن ان پر عذاب نہیں ہو گا ، اُن کا عذاب دنیا میں اُن کے درمیان فتنوں کے ذریعے ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے حوالے سے نقل کی ہے ، ان میں سے ایک میں ایک شخص قاسم ہے جو حمص کا رہنے والا ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن قیس سکونی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔