مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ . باب: اس امت کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16716
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ ، مُتَابٌ عَلَيْهَا ، تَدْخُلُ قُبُورَهَا بِذُنُوبِهَا ، وَتَخْرُجُ مِنْ قُبُورِهَا لَا ذُنُوبَ عَلَيْهَا ، يُمَحَّصُ عَنْهَا بِاسْتِغْفَارِ الْمُؤْمِنِينَ لَهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، عَنْ شَيْخِهِ : أَحْمَدَ بْنِ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت ، امت مرحومہ ہے ، ان پر فضل کیا جائے گا ، وہ اپنے گناہوں کے ہمراہ اپنی قبروں میں داخل ہوں گے ، اور جب وہ اپنی قبروں سے نکلیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اہل ایمان کے ، ان کے لیے دعائے مغفرت کی وجہ سے ، اُن کے گناہوں کو ختم کر دیا جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد بن طاہر بن حرملہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔