حدیث نمبر: 1671
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ حَالَةٍ يَكُونُ عَلَيْهَا الْعَبْدُ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنْ أَنْ يَرَاهُ سَاجِدًا يُعَفِّرُ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ عُثْمَانَ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ ، وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ عُثْمَانُ . قُلْتُ : وَعُثْمَانُ بْنُ الْقَاسِمِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَلَمْ يَرْفَعْ فِي نَسَبِهِ وَأَبُوهُ ، فَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بندہ کسی بھی حالت میں ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اُس سے زیادہ محبوب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ اس بندے کو سجدے کی حالت میں دیکھے ، کہ اُس نے اپنی پیشانی مٹی میں رکھی ہوئی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، عثمان بن قاسم کے حوالے سے ، اُن کے والد سے نقل کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : عثمان نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عثمان بن قاسم نامی راوی کا تذکرہ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور اس کے نسب میں اس کے باپ سے اوپر کا تذکرہ نہیں کیا ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1671
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف