مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ . باب: اس امت کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16706
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ أُمَّتِي مَثَلُ الْمَطَرِ ، لَا يُدْرَى أَوَّلُهُ خَيْرٌ أَمْ آخِرُهُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ قَزَعَةَ ، وَعُبَيْدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْأَغَرِّ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ ، وَفِي عُبَيْدٍ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میری امت کی مثال بارش کی مانند ہے ، یہ پتہ نہیں چلتا کہ اُس کا ابتدائی حصہ زیادہ بہتر ہے ؟ یا آخری حصہ ؟ “” “” ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف حسن بن قزعہ اور عبید بن سلیمان اغر کا معاملہ مختلف ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ، عبید کے بارے میں ایسا اختلاف پایا جاتا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔