مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ . باب: اس امت کی فضیلت کے بارے میں ، جو منقول ہے
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : يَا عِيسَى ، إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدَكَ أُمَّةً ، إِنْ أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ ، حَمِدُوا وَشَكَرُوا ، وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ ، احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا ، وَلَا حِلْمَ وَلَا عِلْمَ . قَالَ : يَا رَبِّ ، كَيْفَ هَذَا لَهُمْ ، وَلَا حِلْمَ ، وَلَا عِلْمَ ؟ ! قَالَ : أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ سَوَّارٍ ، وَأَبِي حَلْبَسٍ : يَزِيدُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا : اے عیسیٰ ! میں تمہارے بعد ایک امت بھیجوں گا اگر انہیں وہ چیز نصیب ہو گی جسے وہ پسند کرتے ہوں ، تو وہ اس بات پر حمد کریں گے اور شکر کریں گے اور اگر انہیں وہ صورتحال لاحق ہو جسے وہ ناپسند کرتے ہوں تو وہ اس بارے میں ثواب کی امید رکھیں گے اور صبر سے کام لیں گے ، حالانکہ ان میں حلم اور علم نہیں ہو گا ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! انہیں یہ چیز کیسے نصیب ہو گی ؟ جبکہ نہ حلم ہو گا اور نہ علم ہو گا ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں اپنے حلم اور اپنے علم میں سے اُنہیں عطا کروں گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حسن بن سوار اور ابوحلبس یزید بن میسرہ کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں بھی ثقہ ہیں ۔