مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
حدیث نمبر: 1669
وَعَنْ سَلْمَانَ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وُضِعَتْ ذُنُوبُهُ عَلَى رَأْسِهِ ، فَتُفَرَّقَ عَنْهُ كَمَا تُفَرَّقُ عُرُوقُ الشَّجَرَةِ يَمِينًا وَشِمَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَأَحْمَدُ وَغَيْرُهُمْ ، وَوَثَّقَهُ سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مومن بندہ ، جب نماز ادا کرنے کے لئے اُٹھتا ہے ، تو اس کے گناہ اُس کے سر پر رکھ دیے جاتے ہیں ، اور پھر وہ گناہ اس سے یوں الگ ہو جاتے ہیں ، جس طرح درخت کی شاخیں دائیں بائیں ہو جاتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابان بن ابوعیاش ہے ، جسے شعبہ ، امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، مسلم علوی اور دیگر حضرات نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔