مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكُوفَةِ . باب: کوفہ کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : وَقَالَ : إِنَّكُمُ الْيَوْمَ مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَتَأْتُونَ أُمُورًا إِنَّهَا لَفِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّفَاقُ عَلَى وَجْهِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَ : إِلَّا أَتَاهُمُ اللَّهُ بِمَا يَشْغَلُهُمْ . وَقَالَ الْبَزَّارُ : يَعْنِي الْكُوفَةَ . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : عَنْ أَهْلِ هَذِهِ الْأَخْبِيَةِ - يَعْنِي الْكُوفَةَ - . وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ ثِقَاتٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” انہوں نے فرمایا : اے عربوں کے گروہ ! آج تم کچھ ایسے امور کے مرتکب ہو رہے ہو کہ اگر وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہوتے تو وہ منافقت شمار ہوتے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ انہیں ایسی صورتحال کا شکار کر دے گا جو انہیں مشغول کر دے گی “ اور امام بزار کی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : اس سے مراد کوفہ ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” ان خیمے والوں سے مراد کوفہ ہے ۔ “ امام أحمد اور امام بزار کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔