حدیث نمبر: 16681
وَعَنْ أَبِي هَانِئٍ : حُمَيْدِ بْنِ هَانِئٍ : أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ - وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ - وَعَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ وَغَيْرَهُمَا يَقُولَانِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّكُمْ سَتَقْدَمُونَ عَلَى قَوْمٍ جَعْدٍ رُءُوسُهُمْ فَاسْتَوْصُوا بِهِمْ خَيْرًا ; فَإِنَّهُمْ قُوَّةٌ لَكُمْ ، وَإِبْلَاغٌ إِلَى عَدُوِّكُمْ بِإِذْنِ اللَّهِ " . يَعْنِي قِبْطَ مِصْرَ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

ابوہانی حمید بن ہانی بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا ابوعبدالرحمن خولی رضی اللہ عنہ ، جن کا نام عبداللہ بن یزید ہے ، اور سیدنا عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ اور ان دونوں کے علاوہ دیگر افراد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس جاؤ گے جن کے سر گھنگریالے بالوں والے ہوں گے ، تم ان کے بارے میں بھلائی کی تلقین قبول کرو ! کیونکہ وہ تمہارے لیے اللہ کے اذن کے تحت قوت بن جائیں گے اور تمہیں دشمن تک پہنچانے کا ذریعہ بن جائیں گے ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مصر کے قبطی تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (141/3)»