مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَبْدَالِ ، وَأَنَّهُمْ بِالشَّامِ . باب: ’’ ابدال “ کے بارے میں جو منقول ہے ، اور یہ کہ وہ شام میں ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 16672
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " الْأَبْدَالُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ ثَلَاثُونَ مِثْلُ خَلِيلِ الرَّحْمَنِ - عَزَّ وَجَلَّ - كُلَّمَا مَاتَ رَجُلٌ أَبْدَلَ اللَّهُ تَعَالَى مَكَانَهُ رَجُلًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ قَيْسٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَأَبُو زَرْعَةَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمَا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ابدال اس امت میں ہوں گے ، وہ تیس افراد ہوں گے ، وہ سیدنا خلیل الرحمن علیہ السلام کی مانند ہوں گے ، جب ان میں سے کوئی فرد فوت ہو جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرا فرد لے آئے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف عبدالواحد بن قیس کا معاملہ مختلف ہے اسے عجلی اور ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ان دونوں کے علاوہ لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔