مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ . باب: اہل یمن کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّهُ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْعَنْ أَهْلَ الْيَمَنِ ; فَإِنَّهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ حَصِينَةٌ حُصُونُهُمْ فَقَالَ : " لَا " . ثُمَّ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَعْجَمِيِّينَ . وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا مَرُّوا بِكُمْ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ ، يَحْمِلُونَ أَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، فَهُمْ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَلَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَعْجَمِيِّينَ فَارِسَ وَالرُّومَ ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا مَرُّوا بِكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ ، وَيَحْمِلُونَ أَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ ، فَإِنَّهُمْ مِنِّي ، وَأَنَا مِنْهُمْ " . ¤ وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ ، فَقَدْ صَرَّحَ بَقِيَّةُ بِالسَّمَاعِ . ¤سیدنا عقبہ بن عبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اہل یمن پر لعنت کریں ، کیونکہ وہ لوگ زبردست لڑاکے ہیں ، اور ان کی تعداد زیادہ ہے ، اور ان کے قلعے مضبوط ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں پر لعنت کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب وہ ( یعنی اہل یمن ) تمہارے پاس سے گزریں گے ، تو وہ اپنی عورتوں کو لے کر چل رہے ہوں گے ، انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوا ہو گا ، وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عجمیوں ، یعنی اہل فارس اور اہل روم پر لعنت کی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اہل یمن تمہارے پاس سے گزریں گے تو وہ اپنی عورتوں کو لے کر چل رہے ہوں گے اور انہوں نے اپنے بچوں کو کندھوں پر اٹھایا ہوا ہو گا ، وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں ۔ “ ان دونوں روایات کی سند حسن ہے اور بقیہ نامی راوی نے سماع کی صراحت کی ہے ۔