مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الْيَمَنِ . باب: اہل یمن کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِطَرِيقِ مَكَّةَ إِذْ قَالَ : " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ كَأَنَّهُمُ السَّحَابُ ، هُمْ خِيَارُ أَهْلِ الْأَرْضِ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ فَقَالَ : وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَسَكَتَ ، قَالَ : وَلَا نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ كَلِمَةً ضَعِيفَةً : " إِلَّا أَنْتُمْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : إِلَّا نَحْنُ . وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مکہ کے راستے میں ، ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، اس دوران آپ نے ارشاد فرمایا : اہل یمن تمہارے پاس آئیں گے ، وہ بادلوں کی مانند ( نفع رساں ) ہوں گے اور وہ روئے زمین پر موجود لوگوں میں بہترین ہوں گے ، تو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نہیں ہیں ؟ ( یعنی کیا ہم روئے زمین کے سب سے بہتر لوگ نہیں ہیں ؟ ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، ان صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نہیں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، ان صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم نہیں ہیں ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں ارشاد فرمایا : ” البتہ تمہارا معاملہ مختلف ہے ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے عرض کی : البتہ ہمارا معاملہ مختلف ہے ۔ “ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد کی دو اسناد میں سے ایک کے ، اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار کی اسناد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔