مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَهْلِ الْحِجَازِ وَجَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَالطَّائِفِ . باب: اہل حجاز ، جزیرہ عرب ، اور طائف کے بارے میں ، جو منقول ہے
حدیث نمبر: 16612
وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ : أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ، وَأَهْلُ مَكَّةَ ، وَأَهْلُ الطَّائِفِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ إِخْرَاجُ أَهْلِ الْكُفْرِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ فِي كِتَابِ الْجِهَادِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبدالملک بن عباد بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” قیامت کے دن میں اپنی اُمت کے جن لوگوں کی سب سے پہلے شفاعت کروں گا وہ اہل مدینہ اہل مکہ اور اہل طائف ہیں ۔ “
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ اس سے پہلے کتاب الجہاد میں
یہ روایت گزر چکی ہے کہ جزیرہ عرب سے کافروں کو نکال دیا جائے گا ۔