حدیث نمبر: 16598
عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ طَاحِيَةٍ مُهَاجِرًا يُقَالُ لَهُ : بَيْرَحُ بْنُ أَسَدٍ ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَيَّامٍ ، فَرَآهُ عُمَرُ فَعَلِمَ أَنَّهُ غَرِيبٌ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ أَهْلِ عُمَانَ ، فَقَالَ : مِنْ أَهْلِ عُمَانَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ : هَذَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ الَّتِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا : عُمَانُ ، يَنْضَحُ بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ ، بِهَا حَيٌّ مِنَ الْعَرَبِ ، لَوْ أَتَاهُمْ رَسُولِي مَا رَمَوْهُ بِسَهْمٍ وَلَا حَجَرٍ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ لِمَازَةَ بْنِ زَبَّارٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى كَذَلِكَ . ¤
محمد محی الدین

ابولبید بیان کرتے ہیں : ہم میں سے ایک شخص ” طاحیہ “ سے ہجرت کر کے نکلا ، اس کا نام بیرح بن اسد تھا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے کچھ دن بعد مدینہ منورہ پہنچا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا ، تو انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ اجنبی شخص ہے ، انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کہاں سے ہے ؟ اس نے بتایا : اہل عمان سے ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا اہل عمان سے ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے ساتھ لے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور یہ بات بیان کی : کہ یہ شخص اس سرزمین سے تعلق رکھتا ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میں ایک ایسی سرزمین کے بارے میں جانتا ہوں ، جس کا نام عمان ہے ، اور اس کے کنارے پر سمندر موجود ہے ، وہاں عربوں کا ایک قبیلہ ہے ، اگر ان لوگوں کے پاس میرا قاصد پہنچ جائے تو وہ لوگ اسے تیر یا پتھر نہیں ماریں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف لمازہ بن زبار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام ابویعلیٰ نے بھی
یہ روایت اس طرح نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16598
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (106) اخرجه احمد فى المسند (308)»