حدیث نمبر: 16596
عَنْ يَزِيدَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ : وَفَدْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَنِي عَنِ الْيَمَامَةِ : " فِيَمَنِ الْعَدْلُ مِنْ أَهْلِهَا ؟ " . فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ : فِي بَنِي عَبْدِ الدُّؤَلِ ، ثُمَّ كَرِهْتُ أَنْ أَكْذِبَ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : الْعَدْلُ مِنْهُمْ فِي بَنِي عُبَيْدٍ ، فَقَالَ : " صَدَقْتَ ، أَرْضٌ ثَبَتَتْ عَلَى شَدٍّةٍ وَلَنْ تَهْلِكَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " إِنَّهُمْ يَعْمَلُونَ بِأَيْدِيهِمْ ، وَيُؤَاكِلُونَ عَبِيدَهُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یزید بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں وفد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے یمامہ کے بارے میں دریافت کیا : کہ وہاں کے رہنے والوں میں عادل کون ہے ؟ میں نے یہ کہنے کا ارادہ کیا کہ یہ چیز بنو عبدالدؤل میں پائی جاتی ہے ، لیکن پھر مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غلط بیانی کروں ، تو میں نے کہا: ان میں عدل ، بنو عبید میں پایا جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے ، وہ ایک ایسی سرزمین ہے جو شدت پر جمی رہتی ہے ، اور ہلاکت کا شکار نہیں ہو گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ لوگ اپنے ہاتھوں کے ذریعے خود کام کرتے ہیں ، اور اپنے غلاموں کو اپنے ساتھ کھلاتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16596
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (246/22)»