حدیث نمبر: 16578
عَنْ غَالِبِ بْنِ أَبْجَرَ قَالَ : ذُكِرَتْ قَيْسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَحِمَ اللَّهُ قَيْسًا " . قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَرَحَّمُ عَلَى قَيْسٍ ؟ ! قَالَ : " نَعَمْ ; إِنَّهُ كَانَ عَلَى دِينِ أَبِينَا إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلِ اللَّهِ ، يَا قَيْسُ حَيِّ يَمَنًا ! يَا يَمَنُ حَيِّ قَيْسًا ! إِنَّ قَيْسًا فُرْسَانُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَيَأْتِيَّنَ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَيْسَ لِهَذَا الدِّينِ نَاصِرٌ غَيْرُ قَيْسٍ ، إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فُرْسَانًا مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ مُسَوَّمِينَ وَفُرْسَانًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ مُعَلَّمِينَ ، فُرْسَانُ اللَّهِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ قَيْسٌ إِنَّمَا قَيْسٌ بَيْضَةٌ تَفَلَّقَتْ عَنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ ، إِنَّ قَيْسًا ضَرَّاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ " . يَعْنِي أَسَدَ اللَّهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا غالب بن ابجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قیس قبیلے کا ذکر کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ قیس ( یعنی قیس قبیلے کے افراد ) پر رحم کرے ! عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپے قیس کے لیے دعائے رحمت کر رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ ہمارے جدامجد سیدنا اسماعیل علیہ السلام بن سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے دین پر تھے ، اسے قیس ! جو یمن کا قبیلہ ہے ، اے یمن ! جو قیس کا قبیلہ ہے ، بے شک قیس قبیلے کے لوگ زمین میں اللہ کے شہسوار ہیں ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جب اس دین کا مددگار ، قیس قبیلے کے افراد کے علاوہ اور کوئی نہیں ہو گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے آسمان والوں میں سے کچھ شہسوار بنائے ہیں ، جن پر نشان لگائے گئے ہیں اور زمین والوں میں سے کچھ شہسوار بنائے ہیں ، جن کی تربیت کی گئی ہے ، اہل زمین میں سے اللہ تعالیٰ کے شہسوار قیس قبیلے کے لوگ ہیں ، بے شک قیس قبیلے کے لوگ ایک ٹکڑا ہیں ، جو ہم سے الگ ہو گیا بے ، شک قیس قبیلے کے لوگ زمین میں اللہ کے شیر ہیں ۔ “ راوی کہتے ہیں : لفظ ” ضراء“ کا مطلب شیر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المناقب / حدیث: 16578
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح