مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بَنِي تَمِيمٍ . باب: بنوتمیم کے بارے میں جو منقول ہے
وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ : أَنَّ رَجُلًا نَالَ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَهُ ، فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى لِيَحْصِبَهُ بِهِ . ¤ وَقَالَ عِكْرِمَةُ : حَدَّثَنِي فُلَانٌ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّ تَمِيمًا ذُكِرُوا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : فَقَالَ رَجُلٌ : أَبْطَأَ هَذَا الْحَيُّ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مُزَيْنَةَ فَقَالَ : " مَا أَبْطَأَ قَوْمٌ هَؤُلَاءِ مِنْهُمْ " . ¤ وَقَالَ رَجُلٌ يَوْمًا : أَبْطَأَ هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ بِصَدَقَاتِهِمْ ، فَأَقْبَلَتْ نَعَمٌ حُمْرٌ وَسُودٌ لِبَنِي تَمِيمٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَؤُلَاءِ نَعَمُ قَوْمِي " . ¤ وَنَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ : " لَا تَقُلْ لِبَنِي تَمِيمٍ إِلَّا خَيْرًا ; فَإِنَّهُمْ أَطْوَلُ النَّاسِ رِمَاحًا عَلَى الدَّجَّالِ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤عکرمہ بن خالد بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے ان کی موجودگی میں بنو تمیم کو برا بھلا کہا: ، تو عکرمہ نے اپنے ہاتھ میں کنکریاں اُٹھا لیں ، تاکہ وہ اس شخص کو ماریں ، پھر عکرمہ نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے : ” ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمیم قبیلہ کا ذکر کیا گیا تو ایک شخص نے یہ کہا: بنو تمیم کا یہ قبیلہ اس معاملے میں تاخیر سے کام لے رہا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزینہ کی طرف دیکھا اور فرمایا : وہ قوم تاخیر کرنے والی نہیں ہو گی ، جن میں یہ لوگ شامل ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص نے یہ کہا: بنو تمیم کے لوگ صدقہ لانے میں تاخیر کر رہے ہیں ، اسی دوران بنو تمیم کے سرخ اور سیاہ اونٹ آ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ میری قوم کے جانور ہیں ۔ ایک دن ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنو تمیم پر تنقید کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم بنو تمیم کے بارے میں صرف بھلائی کی بات کہو ، کیونکہ دجال کے خلاف اُن کے نیزے سب سے زیادہ لمبے ہوں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔