مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المناقب— مناقب کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَبَائِلِ الْعَرَبِ . باب: عربوں کے قبائل کے بارے میں ، جو منقول ہے
وَعَنِ ابْنِ سَنْدَرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ ، وَغِفَارُ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَتُجِيبُ أَجَابَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . ¤ فَقَالَ لَهُ أَبُو الْخَيْرِ : يَا أَبَا الْأَسْوَدِ ، أَنْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَذْكُرُ تُجِيبَ ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤سیدنا ابن سندر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اسلم قبیلے کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے ، اور غفار قبیلے کے لوگوں کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے ، اور تجیب قبیلے کے لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو قبول کیا ہے “ راوی بیان کرتے ہیں : ابوالخیر نامی راوی نے اُن سے کہا: اے ابواسود ! کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ” تجیب “ قبیلے کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں !
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور ان دونوں حضرات کی سند حسن ہے ۔