مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الصَّلَاةِ وَحَقْنِهَا لِلدَّمِ . باب: نماز کی فضیلت اور اس کا جان کو محفوظ کرنا
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَعْتَمِلُ ، فَكَانَ بَيْنَ مَنْزِلِهِ وَمُعْتَمَلِهِ خَمْسَةُ أَنْهَارٍ ، فَإِذَا أَتَى مُعْتَمَلَهُ عَمِلَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَصَابَهُ الْوَسَخُ أَوِ الْعَرَقُ ، فَكُلَّمَا مَرَّ بِنَهْرٍ اغْتَسَلَ ، مَا كَانَ ذَلِكَ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ ؟ فَكَذَلِكَ الصَّلَاةُ ; كُلَّمَا عَمِلَ خَطِيئَةً فَدَعَا وَاسْتَغْفَرَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَزَادَ فِيهِ : " ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً اسْتَغْفِرَ ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا " . وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرَيْظٍ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” پانچ نمازیں ، اپنے درمیان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر کوئی شخص کام پر جاتا ہو ، اور اس کی رہائش گاہ اور کام کی جگہ کے درمیان پانچ نہریں آتی ہوں ، جب وہ اپنے کام کی جگہ پر آئے ، تو جو اللہ کو منظور ہو ، وہ کام کر لے ، تو اُسے میل لگ جائے اور پسینہ آ جائے ، پھر وہ جس بھی نہر کے پاس سے گزرے تو وہ غسل کر لے ، تو کیا اُس کا کوئی میل باقی رہے گا ؟ نمازوں کی مثال بھی اسی طرح ہے ، جب بھی انسان خطا کرتا ہے ، تو پھر دعا کرتا ہے ، اور مغفرت طلب کرتا ہے ، تو اُس کے پہلے والے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” پھر وہ نماز ادا کرتا ہے ، اور مغفرت طلب کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے والے گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن قریظ ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔